بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، عظیم مجاہد اور انقلاب اسلامی کے رہبرِ شہید کی تاریخی تشییع کے موقع پر، خصوصی سیمینار "رہبرِ شہیدِ امت کا تزویراتی اور تہذیبی ورثہ"، ابنا نیوز ایجنسی کی میزبانی میں، یمنی مفکر اور مستبصر ڈاکٹر عصام العماد اور بحرینی سیاستدان ڈاکٹر راشد الراشد کی موجودگی میں منعقد ہؤا اور ان دو دانشوروں نے اس موقع پر اظہار خیال کیا۔
رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد ثقافتی اور سیاسی انقلاب
یمنی مفکر اور محقق ڈاکٹر عصام العماد نے اس سیمینار میں رہبرِ شہیدِ انقلاب کی عظیم الشان شخصیت کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی شہادت انسانی دنیا میں ایک "ثقافتی اور سیاسی انقلاب" پیدا کر سکتی ہے۔ انھوں نے پیشین گوئی کی کہ رہبرِ شہیدِ کی تشییع کی تقریب ایک عظیم واقعے طور پر ابھرے گی جو عالم اسلام کی حدود سے آگے بڑھ کر پوری دنیا کی رائے عامہ کو اپنی طرف متوجہ کرائے گی۔
پوری دنیا میں غائبانہ نماز جنازہ
ڈاکٹر العماد نے یہ بھی تجویز دی کہ اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر وسیع تر پیمانے پر منعکس کرنے کے لئے، مختلف ممالک میں ائمۂ جماعت ـ خاص طور پر اہل سنت اور زیدیوں کے درمیان جو غائبانہ نماز جنازہ کو جائز سمجھتے ہیں ـ تشییع کی تقریب کے ساتھ ہی غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کریں تاکہ یہ عمل 'شہادت کی ثقافت' کے فروغ میں ایک عالمی رجحان کی صورت اپنا لے۔
محور مقاومت (یا محاذ مزاحمت) کے بارے میں رہبرِ شہید تزویراتی نقطۂ نظر؛ یمن سے آبنائے بابالمندب تک
انھوں نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں یمن کی اسلامی بیداری میں رہبرِ انقلاب اسلامی کے اسٹراٹیجک کردار پر روشنی ڈالی اور انہیں انصاراللہ تحریک کی تشکیل میں سب سے مؤثر شخصیات میں سے ایک قرار دیا جن کا دہائیوں پہلے بدرالدین الحوثی اور سید عبدالملک الحوثی جیسی شخصیات کے ساتھ فکری اور ثقافتی رابطہ رہا ہے۔
عصام العماد کے مطابق، رہبرِ انقلاب اسلامی نے برسوں پہلے دور اندیشانہ نگاہ کے ساتھ آبنائے بابالمندب کی اسٹراٹیجک اہمیت پر توجہ دی تھی اور یمن کے ساتھ ثقافتی روابط مضبوط کرنے کے لئے "ناصر اطروش" کے مزار کی تعمیر نو کا حکم دیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ عظیم شہید ایک کثیر الجہتی شخصیت کے مالک تھے اور سیاسی اور عسکری معاملات پر عبور اور امریکہ اور اسرائیل کی گہری پہچان کے ساتھ ساتھ تاریخ، رجال، فلسفہ، عرفان اور فارسی، عربی اور ترکی ادب جیسے شعبوں میں بھی قابل ذکر مہارت رکھتے تھے۔
اس یمنی عالم دین نے رہبرِ انقلاب اسلامی اور سید قطب کے تفسیری طریقہ کار کا موازنہ کرتے ہوئے زور دیا کہ انھوں نے بعض اسلامی تحریکوں کے برعکس، جو صرف قرآن کے سیاسی پہلو پر توجہ مرکوز کرتی ہیں، "سیاست اور معنویت" کے درمیان گہرا ربط قائم کرنے میں قابل قدر کامیابی حاصل کی۔
انھوں نے ان کے فکری نظام میں "شوق شہادت" کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس شہید کے خون کا اثر اتنا وسیع ہے کہ ان کی شہادت کے بعد شدت پسند تحریکوں سے الگ ہونے والے بعض افراد اور حتیٰ کہ داعش کے بعض عناصر بھی مکتب اہلبیت(ع) کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔
العماد نے آخر میں نشاندہی کی کہ آج یمن کے عوام اور دنیا کے بہت سے مسلمان، رہبرِ انقلاب اسلامی کے سیاسی نظریات کے علاوہ، مہدویت اور ائمہ اطہار کی سیرت جیسے موضوعات میں ان کے فکری اور مکتبی مبادیات کی گہرائی سے پہچان کے بھی مشتاق ہیں۔
ایران سے جڑی ہوئی شناخت؛ آل خلیفہ کا ولایت فقہ سے تصادم
اسی سیمینار میں بحرین کی اسلامی تحریک عمل کے ایک رہنما، ڈاکٹر راشد الراشد نے انقلاب اسلامی کے رہبرِ شہید کے فقدان کو پورے عالم اسلام کے لئے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔
انھوں نے رہبرِ شہید کی مرجعیت اور قیادت کے مرتبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں خطے میں نوجوانوں اور مزاحمتی تحریکوں ـ بشمول لبنان، عراق، یمن اور بحرین ـ کے لئے متاثرکن قرار دیا اور مزید کہا کہ نازک لمحات میں ان کا قول اور موقف ہمیشہ مؤمن قوتوں کی حرکت کے قطب نما رہا ہے۔
اس بحرینی سیاستدان نے بحرین اور ایران کے درمیان گہرے تاریخی اور شناختی ربط پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ بحرین کے نصف سے زیادہ لوگ اصل میں ایرانی ہیں اور اس ملک کا سعودی عرب کے ساتھ کوئی شناختی تعلق نہیں ہے۔
انھوں نے آل خلیفہ رجیم پر سخت تنقید کرتے ہوئے بحرینی علماء، مداحوں اور روضہ خوانوں کے خلاف اس رجیم کے جابرانہ اقدامات کو 'عوام کے درمیان حکام کا خوف پیدا کرنے کی کوشش' قرار دیا تاکہ رہبرِ انقلاب اسلامی کی فقہی اور سیاسی مرجعیت، عوام میں اثر نہ ڈالے۔
ڈاکٹر راشد الراشد نے زور دیا کہ آل خلیفہ رجیم "ولایت فقیہ" کو ایک سیاسی جرم سمجھتی ہے اور درجنوں دینی علماء کو گرفتار کرکے عوام کی ایران کی دینی مرجعیت کی تقلید کے رجحان کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ڈاکٹر الراشد کے مطابق، آلخلیفہ نے حتیٰ کہ حسینی شعائر اور عاشورا کے مواکب کو بھی ولایت فقیہ کے نظریئے کی ترویج کے الزام میں محدود کر دیا ہے، لیکن اس دباؤ نے بحرین کے عوام کے ایران کی مرجعیت اور تہذیب کے ساتھ قلبی اور اعتقادی لگاؤ کو توڑ نہیں سکا اور یہ فکری ورثہ ان کے راستے کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ